بشارالاسد کو زہر دینے کا دعویٰ؟ روس کا اہم بیان
روس نے سابق شامی صدر بشارالاسد کو زہر دیئے جانے کی خبروں کی تردید کردی۔
روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے واضح کیا ہے کہ بشار الاسد اور ان کا خاندان ماسکو میں محفوظ ہیں۔ انہوں نے معمر قذافی کے انجام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بشار الاسد کو انسانی بنیادوں پر پناہ دی، معمر قذافی کا قتل براہ راست نشر ہوا اور ہیلری کلنٹن اس پر خوش ہوئی تھی، بشارالاسد کو زہر دیئے جانے کی خبریں جھوٹ اور من گھڑت ہیں۔
برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے زہر دیئے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ آبزرویٹری کے مطابق بشارالاسد کو مبینہ طور پر ستمبر میں زہر دیا گیا ۔
شامی ہیومن رائٹس آبزرویٹری کے مطابق زہر خورانی کے بعد بشارالاسد کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زیرعلاج ہیں اور حالت اب بہتر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے کا مقصد روسی حکومت کو شرمندہ کرنا اور ملوث ٹھہرانا بتایا گیا ہے، بشارالاسد سے صرف بھائی ماہرالاسد کو اسپتال میں ملاقات کی اجازت ملی۔
رواں سال 2 جنوری کو بھی یہ خبر آئی تھی کہ باغیوں کے ہاتھوں اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد جان بچا کر روس فرار ہونے والے سابق صدر بشار الاسد کو ماسکو میں قتل کرنے کی کوشش میں زہر دے دیا گیا۔
برطانوی اخبار دی سن کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بشار الاسد کو قتل کرنے کی کوشش میں زہر دیا گیا۔ آن لائن اکاؤنٹ جنرل ایس وی آر (جو مبینہ طور پر ایک سابق روسی اعلیٰ جاسوس کی طرف سے چلا جا رہا ہے)، نے بتایا کہ اتوار کے روز سابق شامی صدر کی طبیعت ناساز ہوگئی تھی۔
اس نے دعویٰ کیا کہ 59 سالہ بشار الاسد نے اُس وقت طبی امداد مانگی جب وہ شدید کھانسی اور دم گھٹنے کی حالت میں مبتلا ہوگئے تھے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/SL1xafh
No comments