جوکر کی مسکراہٹ میں چھپی موت، بھیانک حقیقت کی خوفناک داستان!
امریکی تاریخ میں ویسے تو بے شمار قاتلوں نے موت کی دہشت پھیلائی مگر ’جان وین گیسی‘ جوکر کا ایک ایسا نام ہے جو آج بھی خوف اور نفرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ایک ایسا شخص جو بچوں کی سالگرہ تقاریب پر "پوگو دی کلاون” بن کر مسکراتا تھا، مگر رات کے اندھیرے میں موت کا کھیل کھیلتا تھا۔ جان وین گیسی کا نام تاریخ کے سب سے بدنام اور خوفناک مسخروں کی فہرست میں آتا ہے جو حقیقی زندگی میں ایک سیریل کلر تھا۔
یہ ایک امریکی سیریل کلر اور جنسی مجرم تھا جس نے شکاگو کے مضافاتی علاقے الینوائے کے نوروڈ پارک ٹاؤن شپ میں 1972 اور 1978 کے درمیان کم از کم 33 نوجوانوں اور لڑکیوں کی عصمت دری تشدد اور قتل کیا۔

یہ کہانی ایک مسکراتے قاتل کی ہے جو ایک عام شہری کے بھیس میں شیطان کی شکل اختیار کر چکا تھا وہی "ڈیول اِن ڈسگائز” جسے دنیا آج تک بھلا نہیں سکی اور شاید نہ کبھی بھلا پائے۔
1942میں شکاگو میں پیدا ہونے والا جان وین گیسی بظاہر ایک مثالی شہری دکھائی دیتا تھا۔ یہ سفاک ریپسٹ (عصمت دری کرنے والا) اور درندہ صفت قاتل بچوں کے لیے باقاعدگی سے شوز میں پرفارم کرتا تھا۔
دن میں وہ کنسٹرکشن بزنس چلاتا، سیاست میں حصہ لیتا اور شام کو اسپتالوں میں جا کر بیمار بچوں کو کلاون میک اپ کرکے ان کا دل لبھاتا اور ہنساتا مگر اندر ہی اندر اس کے ذہن میں اندھیرا، خوف اور وحشت کا ایک طوفان پل رہا تھا

اس کی کمپنی ’پی ڈی ایم کانٹریکٹرز‘ کے تحت وہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر اپنے گھر بلاتا، جہاں وہ ان پر تشدد اور زیادتی کرتا اور پھر ان کی لاشیں اپنے ہی گھر کے ایک حصے میں دفنا دیتا۔
ایک رپورٹ کے مطابق 1972سے 1978 کے درمیان جان وین گیسی نے 33 نوجوان لڑکیوں اور مردوں کو موت کے گھاٹ اتارا، اکثر کو گلا دبا کر یا دم گھونٹنے سے مارا گیا۔
ان میں سے 26 افراد کی لاشیں اس کے گھر کے نیچے دفن پائی گئیں، جب کہ کچھ کو قریب ہی دریا میں پھینک دیا گیا۔
پولیس کو گیسی کے گھر سے ان گمشدہ لڑکوں کے کپڑے، شناختی کارڈز اور ذاتی اشیاء ملیں وہی لڑکے جن کے والدین برسوں سے انصاف کے طلبگار تھے۔
سیریل کلر کی مشکلات کا آغاز اس دن سے ہوا
11دسمبر 1978 کو 15 سالہ رابرٹ پیئسٹ نامی ایک نوجوان گھر سے یہ کہہ کر نکلا کہ وہ جان وین گیسی سے نوکری کی بات کرنے جا رہا ہے لیکن وہ واپس گھر نہ آیا۔ جس کے بعد اس کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہوتا گیا، پولیس نے جب گیسی کی سرگرمیوں پر خفیہ نظر رکھی تو ایک پرانے جنسی ہراسانی کے کیس نے ان کے شک کو یقین میں بدل دیا۔
گھر کی تلاشی کے دوران پولیس نے وہ منظر دیکھا جس کو دیکھنے کے بعد پوری دنیا دہل گئی۔ گھر کی زمین کے نیچے لاشوں کی قطاریں دیکھ کر اہلکار سکتے میں آگئے۔

بعد ازاں پولیس نے متعدد شواہد ملنے کے بعد اسے باقاعدہ گرفتار کرلیا، دوران تفتیش گیسی نے پرسکون انداز میں اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا۔
مزید پڑھیں : راتوں کو سڑکوں پر گھومتے خوفناک جوکر نے لوگوں کو گھروں میں قید کردیا
اس نے بتایا کہ میں نے 30 سے زیادہ لوگوں کو جان سے مارا ہے، کبھی کبھی مجھے لگتا تھا کہ یہ میں نہیں، بلکہ میرا دوسرا روپ ‘جیک ہینلی’ کر رہا ہے۔” اس کا یہ دوسرا روپ” دراصل ایک نفسیاتی بہانہ تھا مگر عدالت کے لیے وہ ایک عادی مجرم، شکاری اور قاتل تھا۔
سال 1980میں جان وین گیسی کو 33 قتل، جنسی زیادتی اور نابالغ لڑکوں پر تشدد کے الزامات میں سزائے موت سنائی گئی۔ اس نے 14 سال جیل میں گزارے، جہاں وہ خود کو بےقصور قرار دیتا رہا اور بالآخر10مئی 1994 کو 52 سال کی عمر میں اسے زہریلا ٹیکہ لگا موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/VEp2Bhu
No comments