Breaking News

لندن : 38 سال سزا کاٹنے والے بے گناہ قیدی کے ہوشربا انکشافات

لندن : برطانیہ کی جیل میں 38 سال گزارنے والے بےگناہ قیدی نے رہائی کے بعد بتایا کہ اسے پولیس نے بہیمانہ تشدد سے جھوٹا اعتراف جرم کرنے پر مجبور کیا۔

38سال قبل کیے گئے غلط اقدام نے ایک بے گناہ قیدی کی پوری زندگی برباد کردی۔ پیٹر سلیوان، جسے 1986 میں ڈیان سنڈال نامی خاتون کے قتل کے الزام میں عمر قید سنائی گئی تھی، نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے دوران تفتیش بے پناہ تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے زبردستی اعتراف جرم کروایا تھا۔

68سالہ سلیوان نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حراست کے دوران اسے 22 مرتبہ پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا، جہاں اسے نہ صرف بری طرح مارا پیٹا گیا بلکہ بنیادی ضروریات جیسے کھانا، پانی اور نیند سے بھی محروم رکھا گیا۔

اس نے بتایا کہ پولیس اہلکار میرے سر پر کمبل ڈال کر ڈنڈوں لاٹھیوں سے شدید تشدد کا نشانہ بناتے تھے انہوں نے اعتراف جرم سے انکار پر مزید 35 مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

برطانوی پولیس ریکارڈ کے مطابق بے گناہ قیدی سلیوان کو ابتدائی 7 انٹرویوز میں قانونی مشاورت کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی تھی۔

پیٹر سلیوان کی سزا 2023 میں اس وقت کالعدم قرار دی گئی جب ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ متاثرہ مقتولہ خاتون سے حاصل ہونے والے مختلف نمونوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے خلاف مقدمے کا انحصار دانتوں کے نشانات جیسے ناقابلِ اعتبار سمجھے جانے والے ثبوت اور ایک اقرارِ جرم پر تھا جسے وہ بعد میں واپس لے چکا تھا۔

38سال قید کاٹنے کے بعد رہائی پانے والے سلیوان کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں میری دنیا ہی بدل گئی اب معمولاتِ زندگی میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کررہا ہوں، باہر کی دنیا مجھے اجنبی سی محسوس ہوتی ہے۔

اس نے بتایا کہ اگر پولیس مجھ سے باضابطہ طور پر معافی بھی مانگے تب بھی میں انہیں معاف نہیں کر سکتا، یہ دکھ اور تکالیف کا احساس زندگی بھر میرے ساتھ رہے گا۔

دوسری جانب مقامی پولیس افسر نے اس واقعے کو محض عدالتی غلطی قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اُس وقت کے افسران نے قانون کے مطابق کارروائی کی۔ پولیس نے معاملہ خود احتسابی ادارے کے سپرد کیا تھا مگر کسی اہلکار کے خلاف بدعنوانی ثابت نہ ہوسکی۔

سلیوان کی وکیل سارہ مایٹ جو گزشتہ دو دہائیوں تک اس کیس پر کام کرتی رہیں ان کا کہنا ہے کہ 38سال ضائع ہونے کا کوئی ازالہ ممکن نہیں۔ سلیوان کو اب معاوضے کا انتظار ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 13 لاکھ پاؤنڈ مقرر ہے۔

واضح رہے کہ متاثرہ خاتون کے قتل کی تفتیش دوبارہ کھول دی گئی ہے، تاہم اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/6zijYvk

No comments