Breaking News

بچپن میں لاپتہ ہونے والی بچی 42 سال بعد ڈرامائی انداز میں بازیاب

امریکی لڑکی جو محض تین برس کی عمر میں اغوا ہوئی اور 42 سال سے زائد عرصے کے بعد بازیاب ہوگئی، حیران کن طور پر وہ خود کو مغوی سمجھتی ہی نہیں تھی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سال 1983 میں امریکی ریاست کینٹکی میں 3 سالہ بچی شیل میری نیوٹن مبینہ طور پر اغوا کی گئی تھی جس کی عمر اب 46 برس ہے۔

وہ ایک عرصے تک مختلف ناموں کے تحت زندگی گزارتی رہی اور اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کا نام سرکاری ریکارڈ میں لاپتا بچوں کے ڈیٹا بیس میں شامل رہا ہے، یا اس کی والدہ ایف بی آئی کی ’’ٹاپ ایٹ موسٹ وانٹڈ پیرنٹل کڈنیپنگ فجیٹیوز‘‘کی فہرست میں شامل تھیں۔

سرکاری حکام کے مطابق مشیل کو گزشتہ ماہ نومبر میں پہلی بار اسے اس کی سابقہ زندگی کے بارے میں آگاہ کیا گیا، اسے اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ وہ کبھی اغوا ہوئی تھی۔ جس کے بعد چار دہائیوں سے زائد عرصے بعد اس کی ملاقات اپنے والد سے ممکن ہو سکی۔

رپورٹ کے مطابق مشیل کی والدہ ڈیبرا نیوٹن نے 1983 میں اپنے گھر سے جاتے ہوئے یہ بتایا کہ وہ جارجیا منتقل ہونے کی تیاری کے تحت پہلے سے جارہی ہیں۔

 missing girl

تاہم بعد ازاں جب والد جوزف نیوٹن جارجیا پہنچے تو وہاں نہ ان کی بیوی ڈیبرا موجود تھیں اور نہ ہی ان کی تین سالہ بیٹی کہیں ان کو ملی۔

پولیس کے مطابق 1984 اور 1985 کے درمیان ایک آخری فون کال ہوئی، جس کے بعد دونوں ماں بیٹی مکمل طور پر غائب ہوگئیں۔

بچی کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائی شروع کی گئی، جارجیا کے مختلف علاقوں میں پوسٹر آویزاں کیے گئے جبکہ ڈیبرا نیوٹن کی غیر موجودگی اس پر بچی کو غیر قانونی طور پر تحویل میں لینے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی اور اسے ایف بی آئی کی مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔

Mother arrest

سال 2000 میں کینٹکی حکام نے یہ مقدمہ بند کر دیا تاہم 2016 میں ایک قریبی عزیز کی درخواست پر کیس دوبارہ کھولا گیا اور 2017 میں گرینڈ جیوری نے ڈیبرا نیوٹن پر دوبارہ فردِ جرم عائد کردی گئی۔

تحقیقات کو اس وقت نیا موڑ ملا جب پولیس کو اطلاع ملی کہ مشیل کی والدہ فلوریڈا میں دوسرے نام سے رہائش پذیر ہے، اگلے روز پولیس فلوریڈا کے ایک گھر پہنچی، جہاں ڈیبرا نیوٹن ’شیرون نیلی‘ کے نام سے مقیم تھی۔

ڈیبرا نیوٹن کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس نے مغوی بچی مشیل کے دروازے پر دستک دی اور اسے تمام تر حقیقت سے آگاہ کیا۔

 missing daughter

باپ بیٹی کی چار دہائیوں بعد ملاقات

مشیل کے والد جوزف نیوٹن نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی ہمیشہ ہمارے دل میں رہی ہے میں لمحات کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا جب میں نے اپنی بیٹی کو گلے لگایا تو ایسا لگا جیسے میں اسے پہلی بار نوزائیدہ حالت میں دیکھ رہا ہوں وہ ایک فرشتے کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔

مشیل اور اس کے والد دونوں باب بیٹی اس وقت عدالت میں موجود تھے جب ڈیبرا نیوٹن پر تحویل میں مداخلت کے سنگین الزام کی فردِ جرم عائد کی گئی۔

کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے ڈیبرا نیوٹن کو ایک اہلِ خانہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ضمانت پر رہا کر دیا۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/BY8qgtN

No comments