غزہ میں جنگ بندی آگے نہ بڑھنے سے متعلق امریکا کا سخت بیان
امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ جب تک آخری قیدی کی لاش واپس نہیں آتی جنگ بندی آگے نہیں بڑھ سکتی۔
اقوام متحدہ میں امریکا کی نائب مندوب جینیفر لوسیٹا نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ غزہ میں جنگ بندی اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک کہ آخری اسرائیلی مغوی کی لاش واپس نہیں مل جاتی۔
اس بیان میں اسرائیلی حکام کے موقف کی بازگشت ہے جنہوں نے کہا ہے کہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتا جب تک تمام اسیران کی لاشیں واپس نہیں کر دی جاتیں۔
حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں سے ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کی وجہ سے اسرائیلی پولیس افسر ران گویلی کی باقیات کو برآمد کرنا مشکل ہے۔
ناقدین نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس صورت حال کو استعمال کرتے ہوئے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز میں تاخیر کر رہا ہے۔
لوسیٹا نے کہا کہ دنیا کو پتہ تھا کہ حماس اور اس سے منسلک تنظیمیں ہر یرغمالی کے مقام کو جانتی تھیں، اور صدر ٹرمپ غزہ کے تنازع کو ختم کرنے کے جامع منصوبے کے حصے کے طور پر واضح تھے کہ ہر یرغمالی کو گھر پہنچنا چاہیے۔”
ان کا کہنا تھا کہ "پولیس افسر رن کی لاش اس کے والدین اور بہن بھائیوں کو واپس کی جانی چاہیے اب، جب تک وہ گھر نہیں آتی ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔”
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/gFI7QJH
No comments