Breaking News

منی سوٹا : ٹرمپ انتظامیہ نے مظاہرین کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے

واشنگٹن : امریکا بھر میں آئس (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ایجنٹس کیخلاف عوامی احتجاج رنگ لے آیا ٹرمپ انتظامیہ نے منی سوٹا مظاہرین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔

منی سوٹا میں تعینات آئس (آئی سی ای) کے کمانڈرز اور اُن کے ایجنٹوں کو منیا پولس سے واپس بلانے کے احکامات جاری کردیے گئے۔

اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ منی سوٹا کے گورنر ٹم والز سے ان کی ٹیلی فونک گفتگو مثبت رہی ہے، ہماری ٹیم حالیہ واقعات کا جائزہ لے رہی ہے۔

دوسری جانب منی سوٹا کی انتظامیہ نے ٹرمپ کے امیگریشن انفورسمنٹ کریک ڈاؤن کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔ عدالت آئندہ سماعت پر آپریشن جاری رکھنے یا معطل کرنے کا فیصلہ سنائے گی۔

منیاپولس میں شہری کی ہلاکت پر نیویارک میں ہزاروں افراد نے فیڈرل ایجنٹس کے کیخلاف شدید احتجاج کیا تھا۔ مین ہٹن میں مظاہرین نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کیخلاف نعرے لگائے اور امیگریشن اہلکاروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے باخبر ایک شخص نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی سینئر کمانڈر گریگ بووینو اور ان کی زیرِ قیادت اہلکاروں کے منگل تک منی ایپلس چھوڑنے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق بارڈر پٹرول کمانڈر گریگ بووینو کی روانگی ایسے وقت متوقع ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے بارڈر زار ٹام ہومن کو منی سوٹا بھیج دیا ہے۔

پرتشدد امیگریشن حکام واپس بلائے جانے کے گورنر کے مطالبے کو ٹرمپ نے بغاوت قرار دے دیا

ذرائع نے بتایا کہ وہ اس آپریشن کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کے مجاز نہیں ہیں، اسی لیے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ 37 سالہ آئی سی یو نرس الیکس پریٹی کی بارڈر پٹرول اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

امیگریشن اہلکار کی مظاہرین پر فائرنگ کے بعد امریکا بھر میں مظاہروں کا اعلان



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/dIt83B4

No comments