Breaking News

حسینہ واجد کے دور میں ہزاروں جبری گمشدگیاں رپورٹ

بنگلا دیش میں بھارت نواز سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے دور میں ہزاروں جبری گمشدگیاں ہوئیں۔

بنگلا دیش نے انکشاف کیا ہے کہ ملک سے فرار شیخ حسینہ واجد سے منسلک جبری گمشدگیوں کی تعداد 4000 سے 6000 تک ہو سکتی ہے۔

جبری گمشدگیوں سے متعلق انکوائری کمیشن کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے پاس گمشدگیوں کے حوالے سے کل 1,913 شکایات درج کی گئی تھیں جن میں سے 1,569 کو "تصدیق کے بعد انتخاب” کے ذریعے غائب کر دیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کی جانب سے فیس بک پر پوسٹ کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ان میں سے 287 الزامات ’لاپتہ اور مردہ‘ کے زمرے میں آئے ہیں۔

تاہم کمیشن کی رکن نبیلہ ادریس نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کی تعداد 4000 سے 6000 کے درمیان ہو سکتی ہے۔

ادریس نے کہا کہ لاپتہ ہونے والے بہت سے متاثرین سے رابطہ نہیں ہوا ہے اور بہت سارے کسی دوسرے ملک میں منتقل ہو گئے ہیں کافی لوگ ایسے ہیں جن کے ساتھ، اگر ہم خود بھی بات کرتے ہیں تو وہ ریکارڈ پر بات کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم یا’’سونے کی ملکہ‘‘ ! حسینہ واجد کے لاکر سے 10 کلو سونا برآمد

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے منجمد بینک لاکرز سے 10 کلوگرام سونا برآمد ہوا ہے، جس کی مالیت تقریباً تیرہ لاکھ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ سونا اُن لاکرز سے ملا جو ستمبر میں ضبط کیے گئے تھے۔

عدالت کے حکم پرجب یہ لاکرز کھولے گئے توان میں سونے کا ڈھیر تھا، جس میں سونے کے سکے اور زیورات شامل تھے۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں ہونے والی مبینہ کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال اور انسانیت کے خلاف جرائم کی جامع تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے۔

شیخ حسینہ کے بھارت فرار ہونے کے بعد حکام نے ان کی جائیداد، بینک کھاتوں اور مالی اثاثوں کی تفصیلات کا جائزہ لینا شروع کیا۔: Inquiry



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/vBctGm4

No comments