جاپان میں نوجوانوں کیساتھ ‘خصوصی دھوکہ دہی’ کے ریکارڈ واقعات نے ہوش اڑا دیے
جاپان میں خصوصی طریقے سے دیے جانے والے دھوکے نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور ان میں سب سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار ملوث ہیں۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی پولیس نے بتایا کہ ملک بھر میں "خصوصی دھوکہ دہی” کے واقعات سامنے آرہے ہیں، اس طرح کے فراڈ سے ہونے والے نقصان کی مالیت پچھلے سال 141.4 ارب ین، یا تقریباً 928 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے جس نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔
جاپان کی قومی پولیس ایجنسی کی طرف سے خصوصی دھوکہ دہی کے حوالے سے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار 2024 کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہیں۔
یہاں”خصوصی دھوکہ دہی“ اس دھوکے کو کہا گیا ہے جس میں فراڈ کرنے والے افراد متاثرین سے فون اور دیگر طریقوں سے رابطہ کر کے خود کو کوئی سرکاری عہدیدار یا انکے خاندان کا فرد وغیرہ بتاتے ہیں اور پھر انھیں اپنے جال میں پھانس لیتے ہیں۔
ایسے واقعات میں ہونے والے نقصانات کی مجموعی مالیت 98.5 ارب ین یا تقریباً 646 ملین ڈالرز رہی جو پچھلے سال سے کہیں زیادہ ہے، تقریباً 70 فیصد واقعات میں ان دھوکے بازوں نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کیا۔
جن افراد کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان تھیں وہ لوگ جعلی پولیس کی دھوکہ دہی کا شکار ہونے والوں میں 51 فیصد شامل رہے یعنی جوان افراد کو دھوکے بازوں نے زیادہ نشانہ بنایا۔
وہ افراد جن کی عمر 70 سال کی آس پاس تھی ان افراد سے فی کس 17 ملین ین، یا تقریباً 112,000 ڈالر ہتھیائے گئے جبکہ دوسری جانب 60 کے پیٹے کے لوگوں سے فی کس 16 ملین ین، یا تقریباً 105,000 ڈالر بٹورے گئے۔
پیسے ہتھیانے کےلیے جعلی پولیس اہلکاروں کی فون کالز سمیت 75 فیصد کالز بیرون ملک سے کی گئیں، دھوکے باز گروہوں نے بنیادی طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے اڈے بنا رکھے ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/SvgdB6X
No comments