حزب اللہ کا ایک بار پھر غیر مسلح ہونے سے انکار
(17 فروری 2026): لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے غیر مسلح ہونے سے انکار کرتے ہوئے لبنان کی حکومت کی دی گئی مہلت مسترد کر دی۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق لبنانی کابینہ نے اگست 2025 میں فوج کو یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ تمام مسلح گروہوں کے ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں لانے کا منصوبہ تیار کرے اور اس پر عمل درآمد شروع کرے۔
ستمبر 2025 میں کابینہ نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کا باضابطہ خیر مقدم کیا تھا لیکن اُس وقت کوئی واضح ٹائم فریم مقرر نہیں کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شہید کمانڈر علی طباطبائی کی شہادت کا بدلہ ضرور لیں گے، سربراہ حزب اللہ
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے ایک خطاب میں کہا کہ لبنانی حکومت کی جانب سے غیر مسلح کرنے پر توجہ مرکوز کرنا ایک بڑی غلطی ہے کیونکہ یہ مسئلہ اسرائیلی جارحیت کے مقاصد کو پورا کرتا ہے۔
لبنانی وزیر اطلاعات پال مورکوس نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے اسلحہ کنٹرول پلان پر فوج کی ماہانہ رپورٹ کا جائزہ لیا، اس منصوبے میں دریائے لیطانی کے شمالی علاقوں سے لے کر صیدا میں دریائے اولی تک ہتھیاروں کی پابندی شامل ہے اور فوج کو اس کیلیے چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ نے کہا کہ ہم اس معاملے میں نرمی نہیں برت سکتے۔ ان بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ مزاحمتی تنظیم نے ٹائم لائن اور ہتھیاروں کے مسئلے پر اس وسیع تر طریقہ کار کو مسترد کر دیا۔
حزب اللہ نے غیر مسلح کرنے کی کوشش کو ایک غلط قدم قرار دے کر مسترد کر دیا کیونکہ اسرائیل مسلسل لبنان کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ احتجاجاً وزراء کابینہ کے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/27tuU4R
No comments