امریکا مجبور ہو گیا، ایران سے تیل کی درآمد پر عائد پابندیاں 30 دن کے لیے ہٹانے کا اعلان
واشنگٹن (21 مارچ 2026): امریکا نے مجبور ہو کر ایران سے تیل کی درآمد پر عائد پابندیاں 30 دن کے لیے ہٹانے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کرتے ہوئے سمندر میں ایرانی تیل کی خریداری پر تیس دن کے لیے پابندیاں ہٹا دی ہیں، تاکہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث تیزی سے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کو کم کیا جا سکے۔
واشنگٹن نے بحری جہازوں پر ذخیرہ شدہ ایرانی تیل کی فروخت اور ترسیل کی اجازت دے دی، امریکی وزارت خزانہ نے عالمی مارکیٹ میں ایرانی تیل جاری کرنے کا اعلان کر دیا۔
امریکی سیکریٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا ایرانی تیل کی فروخت کے لیے قلیل مدتی اجازت نامہ جاری کر دیا گیا ہے، اس رعایت کے نتیجے میں تقریباً 140 ملین بیرل تیل عالمی مارکیٹ میں آئے گا، اور ایران کی وجہ سے سپلائی پر عارضی دباؤ کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
سیکریٹری خزانہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد عالمی سپلائی اور قیمتوں کا استحکام ہے، ٹرمپ انتظامیہ 440 ملین اضافی بیرل تیل عالمی منڈی میں لانے پر کام کر رہی ہے، صدر ٹرمپ کے ایجنڈے نے امریکی تیل و گیس کی پیداوار ریکارڈ سطح پر پہنچا دی۔
دی گارڈین کے مطابق یہ اقدام وائٹ ہاؤس کی اس تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، جو تقریباً 50 فی صد بڑھ کر فی بیرل 100 ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے اور 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر ہے، نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی کاروباروں اور صارفین کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جہاں ریپبلکنز کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔
گزشتہ تقریباً دو ہفتوں کے دوران یہ تیسری بار ہے کہ امریکا نے عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی کی ہے۔ اس سے پہلے روسی تیل پر بھی پابندیاں نرم کر چکا ہے، اور جمعے کے روز ایک عمومی لائسنس جاری کیا گیا جس کے تحت جمعے تک جہازوں پر لدا ہوا ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات 19 اپریل تک فروخت کی جا سکتی ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/FVLDX74
No comments