Breaking News

’ایرانی ڈرون سے تحفظ چاہیے تو۔۔۔‘: یوکرین کا خلیجی ممالک سے بڑا مطالبہ

کیف (15 مارچ 2026): یوکرین نے خلیجی ممالک سے ایرانی ڈرون حملوں سے بچاؤ میں مدد کے بدلے میں بڑا مطالبہ سامنے رکھ دیا۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کے اُن ممالک کی مدد کے بدلے رقم اور ٹیکنالوجی چاہتے ہیں جنہوں نے ایرانی ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کیلیے یوکرین سے مہارت کی درخواست کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق زیلنسکی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یوکرین کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں تین ٹیمیں بھیجی گئی ہیں تاکہ وہ ماہرانہ جائزہ لے سکیں اور یہ دکھا سکیں کہ ڈرون دفاعی نظام کو کس طرح کام کرنا چاہیے۔

ایران، اسرائیل اور امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں

زیلنسکی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد کسی جنگی کارروائی میں شامل ہونا نہیں ہے، ہماری ایران کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہے، خلیجی ممالک کے ساتھ ڈرون سے متعلق مزید بنیادی اور طویل مدتی معاہدوں پر بات چیت کی جا سکتی ہے تاہم اس امداد کے بدلے یوکرین کو کیا ملے گا اس پر ابھی بحث کی ضرورت ہے۔

یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے آج ٹیکنالوجی اور فنڈنگ دونوں ہی اہم ہیں۔

واضح رہے کہ خلیجی ریاستیں ایرانی شاہد ڈرون کا مقابلہ کرنے کیلیے بڑی مقدار میں فضائی دفاعی میزائل استعمال کر چکی ہیں جبکہ دوسری طرف یوکرین روسی ڈرونز کو مار گرانے کیلیے سستے اور چھوٹے ڈرونز یا جیمنگ آلات سمیت مختلف ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے۔

زیلنسکی کے مطابق امریکا سمیت یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقی ممالک نے ڈرون حملوں کو روکنے کیلیے یوکرین سے مدد طلب کی ہے۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کو ڈرونز گرانے کیلیے یوکرین کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ امریکا نے اس بڑے ڈرون معاہدے پر دستخط کیوں نہیں کیے جس کیلیے یوکرین مہینوں سے کوشش کر رہا ہے اور وہ غیر یقینی کا شکار ہیں کہ آیا اس پر کبھی اتفاق ہوگا بھی یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں تقریباً 35 سے 50 ارب ڈالرز کے معاہدے پر دستخط کرنا چاہتا تھا۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/Hxc2jEA

No comments