5 سال میں 8 انتخابات : بلغاریہ میں شدید سیاسی بحران کی کہانی
صوفیہ : یورپی ملک بلغاریہ طویل عرصے سے سیاسی بحران کا شکار ہے، اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 5 سال کے دوران 8 مرتبہ پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔
ملک میں بار بار ہونے والے انتخابات، کمزور سیاسی اتحاد اور جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات نے جمہوریت اور حکمرانی کے نظام کو غیریقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔
حالیہ انتخابات ایسے وقت میں منعقد ہوئے جب ملک میں سیاسی بےیقینی عروج پر ہے، تقریباً 66 لاکھ ووٹرز نے 14 سیاسی جماعتوں، ایک آزاد امیدوار اور 10 اتحادوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں امیدواروں میں سے 240 ارکانِ پارلیمان کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے۔

پولنگ کا اہتمام بیرون ملک مقیم شہریوں کے لیے بھی متعدد ممالک میں کیا گیا تھا، انتخابات کے فوری بعد ایگزٹ پول کے نتائج سامنے آنے کی توقع ہے جبکہ حتمی نتائج کا اعلان چند روز میں کیا جائے گا۔
اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ انتخابی نتائج نہیں بلکہ ایک مستحکم حکومت کی تشکیل ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے بلغاریہ کی سیاست کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
سیاسی بحران کی جڑیں کمزور مخلوط حکومتوں اور جماعتوں کے درمیان عدم اتفاق میں پیوست ہیں۔ دسمبر 2025 میں وزیر اعظم روزن ژیلیازکوف کی حکومت کو اقتصادی پالیسیوں پر عوامی دباؤ اور سیاسی اختلافات کے باعث مستعفی ہونا پڑا۔
اس کے بعد مختلف سیاسی قوتیں حکومت بنانے میں ناکام رہیں، جس کے نتیجے میں ملک کو ایک بار پھر قبل از وقت انتخابات کی جانب جانا پڑا۔
اس سے قبل بھی اکتوبر 2024 کے انتخابات کے بعد جنوری 2025 میں بننے والی حکومت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پارلیمانی نظام میں استحکام مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔
اگرچہ پارلیمان جسے نیشنل اسمبلی کہا جاتا ہے، آئینی طور پر چار سال کے لیے منتخب ہوتی ہے، مگر عملی طور پر اس کی مدت بار بار تحلیل ہونے کے باعث متاثر ہو رہی ہے۔
جنوری 2026 میں حکومت سازی کی آئینی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہونے کے بعد صدر رومین ردیف نے مختلف سیاسی جماعتوں کو حکومت بنانے کی دعوت دی لیکن کسی بھی جماعت نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حتیٰ کہ بڑے سیاسی اتحاد بھی حکومت سازی سے گریزاں رہے، جس سے بحران مزید سنگین ہوگیا۔
بعد ازاں فروری میں عبوری انتظام کے لیے آندرے گوروو کو قائم مقام وزیراعظم مقرر کیا گیا تاکہ انتخابات تک حکومتی امور چلائے جاسکیں تاہم یہ عبوری بندوبست بھی مستقل حل فراہم کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بلغاریہ کے سیاسی بحران کی بنیادی وجوہات میں عوام کا روایتی سیاسی جماعتوں پر اعتماد ختم ہونا، بدعنوانی کے الزامات اور معاشی مسائل شامل ہیں۔
واضح اکثریت کے فقدان کے باعث ہر بار مخلوط حکومت بنتی ہے جو جلد ہی اختلافات کا شکار ہوکر ٹوٹ جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس بار بھی کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی تو ملک ایک بار پھر سیاسی تعطل کا شکار ہوسکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف داخلی استحکام بلکہ اقتصادی ترقی پر بھی مرتب ہوں گے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/HIeX6t8
No comments