Breaking News

امریکی فوج نے جنوبی ایران پر فضائی حملہ کر دیا، سینٹکام کی تصدیق

واشنگٹن (26 مئی 2026): امریکی فوج نے جنوبی ایران پر فضائی حملہ کر دیا ہے، ترجمان سینٹ کام نے حملے کی تصدیق کر دی۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدہ جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کے دوران پیر کی شب خلیجِ فارس کے قریب ایرانی شہر بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے اطراف بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس نے خطے میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

ترجمان سینٹکام نے بتایا کہ انھوں نے ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور مائنز بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے، یہ حملے سیلف ڈیفنس میں کیے گئے، جو امریکی فوجیوں کو ایرانی خطرات سے بچانے کے لیے تھے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ جنگ بندی کے دوران تحمل کے ساتھ دفاع کر رہی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے بھی بندر عباس پر 3 حملوں کی تصدیق کر دی ہے، میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد صوبہ ہرمزگان کا فضائی دفاعی سسٹم فعال کر دیا گیا ہے، اور خلیج عمان میں امریکی جنگی بحری جہازوں پر میزائل داغے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔


برطانوی وزیر دفاع کا طیارہ جیسے ہی روسی سرحد کے قریب پہنچا تو کیا ہوا؟ اہم انکشاف


ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے کہا کہ بندر عباس میں صورت حال قابو میں ہے اور شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے باوجود تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ ایجنسی کے مطابق سرکاری ذرائع نے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق بندر عباس میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جب کہ فارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسی نوعیت کی آوازیں اہم آبی گزرگاہ کے قریب واقع سیرک اور جاسک کے علاقوں میں بھی سنائی دیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا ’’امریکی افواج نے آج جنوبی ایران میں اپنے فوجیوں کو ایرانی افواج کی جانب سے لاحق خطرات سے بچانے کے لیے دفاعی حملے کیے۔ اہداف میں میزائل لانچ کرنے کی تنصیبات اور ایرانی کشتیاں شامل تھیں جو بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ جاری جنگ بندی کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی افواج کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان حملوں میں کتنے افراد ہلاک ہوئے یا ایران کے کتنے میزائل لانچر تباہ کیے گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ نہیں بتایا کہ حملوں کی وجہ بننے والے خطرات کیا تھے یا یہ حملے طیاروں کے ذریعے کیے گئے یا بحری جہازوں کے ذریعے۔

امریکا اور ایران دونوں آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہیں، اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان اس دوران کئی بار کشیدگی اور آمنا سامنا ہو چکا ہے۔ امریکا آبنائے کے اطراف ایرانی ڈرون مار گرا چکا ہے اور درجنوں جہازوں کو روک چکا ہے، جن میں بعض کو طاقت کے ذریعے قبضے میں بھی لیا گیا۔

پیر کے حملے کئی ہفتوں بعد ایران پر ہونے والے پہلے براہِ راست حملے ہیں، جو اپریل میں شروع ہونے والی کشیدہ جنگ بندی کے بعد سامنے آئے ہیں۔ امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں انٹیلیجنس کلیکشن


امریکا کے سابق سفارت کار اور پینٹاگون کے سابق عہدے دار ایڈم کلیمنٹس نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے بندرگاہی شہر بندرِ عباس پر امریکی حملے امن معاہدے کو ’’سبوتاژ‘‘ نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ممکن ہے امریکا آبنائے ہرمز کے اطراف ایران کی بحری صلاحیتوں اور عسکری سرگرمیوں سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہا ہو اور صورت حال کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ انھوں نے کہا ’’ایسا لگتا ہے کہ امریکا نے اِن ہی معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی ہے۔‘‘

سینٹکام کے اس الزام پر کہ ایران آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھا رہا تھا، کلیمنٹس نے کہا کہ ایرانی افواج کی جانب سے ایسا اقدام ’’مہلک ردِعمل کو دعوت دینے‘‘ کے مترادف ہوتا۔ انھوں نے مزید کہا ’’ایرانیوں کے لیے یہ بات حیران کن نہیں ہونی چاہیے کہ امریکا اس طرح کی کارروائی کرے گا۔‘‘



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/FcBG7R4

No comments