کیا سمپسنز نے ہنٹا وائرس کی پیشگوئی کی تھی؟ حقیقت سامنے آگئی
حیرت انگیز اور طنزیہ پیش گوئیوں کی وجہ سے عالمی شہرت یافتہ کارٹون سیریز دی سمپسنز کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کروز شپ پر ہنٹا وائرس کی پیش گوئی بھی اسی نے کی۔
دی سمپسنز 1989 سے شروع ہونے والی ایک امریکی اینیمیٹڈ کارٹون سیریز ہے جو اپنی حیرت انگیز اور طنزیہ پیش گوئیوں کی وجہ سے عالمی شہرت کی حامل ہے۔
کروز شپ پر ہنٹا وائرس کے حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف افواہیں گردش کرنے لگیں، جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ معروف امریکی کارٹون شو دی سمپسنز نے اس وبا کی پیشگوئی کئی برس پہلے کردی تھی۔
قبل ازیں اس کارٹون سیریز میں مستقبل کے واقعات، سائنسی ایجادات اور سیاسی تبدیلیوں کی درست عکاسی کی گئی ہے، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، 9/11 اور ایلون مسک کے ٹویٹر (ایکس) کے حصول جیسی اہم پیش گوئیاں شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کروز شپ ’ایم وی ہونڈیس‘ پر ہنٹا وائرس کے 8 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ تین افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ افراد میں اینڈیز وائرس کی قسم پائی گئی۔
طبی ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس ایک نایاب مگر خطرناک بیماری ہے جو چوہوں کے فضلے، پیشاب یا لعاب کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، یہ وائرس عموماً وہ آلودہ ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں ان سے بھی پھیلتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنٹا وائرس آسانی سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتا، اس کی ابتدائی علامات عام فلو جیسی ہوتی ہیں، تاہم شدید صورت میں یہ “ہینٹا وائرس پلمونری سنڈروم” میں تبدیل ہوسکتا ہے جو پھیپھڑوں کو شدید متاثر کرکے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ وائرس سے متاثرہ شخص کی زبان جامنی رنگ کی ہوجاتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ایسا براہِ راست وائرس کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ شدید انفیکشن کے دوران جسم میں آکسیجن کی کمی کے باعث جلد، ہونٹ یا زبان نیلگوں یا جامنی دکھائی دے سکتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ دی سمپسنز میں ہنٹا وائرس سے متعلق کوئی واضح پیشگوئی موجود نہیں، جبکہ فائیزر کی کورونا ویکسین کو بھی اس بیماری سے جوڑنے کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
اسی طرح جریدے دی اکانومسٹ کے سرورق کو بھی بعض افراد نے سازشی نظریات سے جوڑا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ صرف اداریاتی خاکے ہوتے ہیں، نہ کہ مستقبل کی پیشگوئیاں۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے مستند طبی معلومات پر انحصار کریں۔ ان کے مطابق عام شہریوں کے لیے اس وائرس کا خطرہ فی الحال کم ہے، تاہم صفائی اور چوہوں سے بچاؤ کے اقدامات ضروری ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/BbedNE6
No comments