Breaking News

سلطان عبد الحمید ثانیؒ کا تاریخی انکار : سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کی کہانی

سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کی بات کی جائے تو فلسطین دینے سے متعلق سلطان عبد الحمید ثانیؒ کے انکار سے شروع ہونے والی کشمکش، ینگ ترک بغاوت اور عالمی جنگوں نے ایک عظیم سلطنت کو تاریخ کا حصہ بنا دیا۔

سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کی داستان صرف ایک سیاسی شکست نہیں بلکہ داخلی کمزوریوں، بیرونی سازشوں اور بدلتے عالمی حالات کی پیچیدہ کہانی ہے۔

اس زوال کے مرکزی کرداروں میں سلطان عبد الحمید ثانیؒ اور تھیوڈور ہرتزل شامل ہیں، جن کے درمیان ہونے والی ایک تاریخی کشمکش نے مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر بدل دی۔

صیہونیت

جب سلطان عبد الحمیدؒ سلطنتِ عثمانیہ کو بچانے کے لیے ہر محاذ پر کوششیں کر رہے تھے تب یورپ میں ایک بہت منظم اور بھاری مالی وسائل رکھنے والی تحریک پیدا ہو رہی تھی جس کا نام صیہونیت تھا۔

اس تحریک کا بانی ایک آسٹرین صحافی تھیوڈور ہرتزل تھا، اس کا ایک ہی جنون تھا کہ کسی بھی طرح دنیا بھر کے یہودیوں کو اکٹھا کرکے ان کو آبائی سرزمین پر لاکر بسانا اور وہاں ایک یہودی ریاست قائم کرنا۔ جس کے راستے میں صرف سلطنتِ عثمانیہ ہی رکاوٹ تھی۔

اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور منصوبے پر عمل درآمد کیلیے وہ کئی بار استنبول آیا اور بالآخر ایک دن اسے سلطان سے براہ راست ملنے کا موقع مل گیا۔

Sultan Abdul Hamid

ہرتزل نے سلطنت کی کمزور مالی حالت کو دیکھتے ہوئے سلطان عبد الحمید کو ایک بڑی مالی پیشکش کی۔ اس میں سلطنتِ عثمانیہ کے قرضے ادا کرنے اور یورپی حمایت فراہم کرنے کا وعدہ شامل تھا، بدلے میں فلسطین میں یہودیوں کو آباد کرنے کی اجازت مانگی گئی۔ ہرتزل نے سلطان سے کہا کہ بس کاغذ کا ایک ٹکڑا چاہیے جس میں یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دی گئی ہو۔

سلطان عبد الحمید کوئی عام بادشاہ نہیں تھے وہ ایک سچے خلیفہ تھے، وہ بخوبی جانتے تھے کہ فلسطین محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ یہ انبیاء کرام کی سرزمین ہے، یہاں قبلہ اوّل ہے، مسجد اقصیٰ ہے اور اس پر سودے بازی کی تو انہیں نہ تاریخ کبھی معاف کرے گی اور نہ ہی خدا۔

اس لیے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ میں فلسطین کی زمین کا ایک انچ بھی نہیں بیچ سکتا کیونکہ یہ ملک میرا نہیں بلکہ پوری امت کی امانت ہے، امت نے اسے اپنے خون پسینے سے حاصل کیا ہے، اپنی دولت اپنے پاس رکھو۔ جب تک میں زندہ ہوں فلسطین کے ٹکڑے نہیں ہونے دوں گا، ایسا صرف ہماری لاشوں پر ہی ہوسکتا ہے۔

سلطان کے صاف انکار کے بعد صیہونیوں نے سامراجی طاقتوں کے ساتھ مل کر منظم سازشوں کا باقاعدہ آغاز کردیا۔ ان دنوں سلطنت کے اندر ترک نوجوانوں نے ایک غدر مچا رکھا تھا، ینگ تُرک وہ نوجوان تھے جو فوجی افسران اور دانشور تھے جنہیں کبھی خود سلطنت نے اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ بھیجا تھا مگر وہ وہاں سے سائنس تو سیکھ کر نہیں آئے البتہ مذہب سے بیزاری اور قوم پرستی اپنے ساتھ ضرور لے آئے۔

Young Turk

ترک نوجوانوں کا یہ گروہ جدیدیت اور قوم پرستی کے نظریات سے متاثر ہوکر سلطنت کے روایتی نظام کے خلاف ہوگیا، انہوں نے سلطان عبد الحمید کی سلطنت پر آہنی گرفت اور پین اسلام ازم کے نظریے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنا شروع کردیا اور پھر 30 سال بعد جولائی 1908 میں بغاوت کرکے آئین اور پارلیمنٹ بحال کروالی۔

بعد ازاں اپریل 1909 میں فوج کے قدامت پسند عناصر نے ینگ تُرکوں کے خلاف بغاوت کردی اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کا سارا الزام ینگ تُرکوں نے سلطان عبد الحمید پر ڈال دیا اور پھر وہ رات آگئی، 27 اپریل 1909 ینگ ترکوں کی ایکشن آرمی نے استنبول پر قبضہ کرلیا اور پارلیمنٹ کے ایک وفد کو سلطان کے پاس صرف یہ بتانے کے لیے بھیجا کہ انہیں عہدے سے معزول کیا جارہا ہے۔

وہ سلطان کہ جس نے 33 سال تک اکیلے سلطنت کی حفاظت کی تھی،آج اسی کے بچے اسے غدار قرار دے کر تخت سے اتار رہے تھے۔ سلطان اندر کے دشمنوں سے ہار گیا اپنے محل سے نکلتے ہوئے انہوں نے باغیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک تاریخی جملہ کہا کہ تم لوگ اس سلطنت کو 10سال بھی نہیں چلا سکو گے اور وقت نے ثابت کیا کہ ان کی یہ پیش گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔

ottoman empire

سلطان کی معزولی کے صرف دو سال بعد 1911 میں اٹلی نے افریقہ میں سلطنت عثمانیہ کے آخری صوبے لیبیا پر قبضہ کرلیا، استنبول میں بیٹھے یہ ینگ ترک کچھ نہ کرسکے۔

پھر اس کے بعد 1912 میں بلقان وار شروع ہوگئی، سربیا، بلغاریہ اور یونان، سب نے مل کر سلطنت پر حملہ کر دیا، کچھ ہفتے لگے اور سلطنتِ عثمانیہ کے وہ سارے یورپی علاقے باری باری ہاتھوں سے نکل گئے۔

اور پھر جو کمی رہ گئی تھی وہ 1914 میں پوری ہوگئی ینگ ترکوں کی حکومت نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا، 4 سال کی خونی جنگ کے بعد 1918 میں یہ جنگ بھی بدترین شکست کے ساتھ ختم ہوئی اس طرح کہ تمام عرب علاقے ہاتھوں سے نکل گئے، برٹش آرمی بغداد، دمشق بلکہ بیت المقدس میں بھی بیٹھی ہوئی تھی۔ یوں وہ سلطنتِ عثمانیہ جو صدیوں تک قائم رہی، چند برسوں میں ہی بکھر کر رہ گئی۔

world war

حجاز ریلوے منصوبہ جو مسلمانوں کے اتحاد کی علامت تھا اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا جو آج تک بحال نہیں ہو پایا، اور پھر اسی برطانیہ نے یہ زمین یہودیوں کو تحفے میں دے دی اور اسی سرزمین پر اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔

عبدالحمید کی 33 سالوں کی محنت کامیاب سفارت کاری، ینگ ترکوں کی بے وقوفی، ناتجربہ کاری اور اندھی قوم پرستی کی وجہ سے صرف 10 سالوں میں ضائع ہوگئی اور سلطان کی پیش گوئی مکمل طور پر سچ ثابت ہوئی۔

سلطان نے یہ سارا دلخراش منظر جلا وطنی اور نظر بندی کے دور میں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بالآخر 10فروری 1918 کو انہوں نے اپنی آخری سانس لی وہ انسان جو کبھی آدھی دنیا کا خلیفہ تھا ایک قیدی کی طرح دنیا سے چلا گیا۔

sultan death

اور ان کے جانے کے بعد سلطنت کا مکمل خاتمہ ہو گیا ایک عظیم سلطنت کی جگہ صرف ایک ملک ترکی ہی باقی بچ سکا، ترکی میں بہت لمبے عرصے تک سلطان عبد الحمید ثانیؒ کا نام لینا بھی جرم سمجھا جاتا تھا، انہیں ایک ولن کے روپ میں پیش کیا جاتا تھا۔

مگر اب دنیا نے یہ وقت بھی دیکھا کہ 2017میں ترکی کے سرکاری ٹیلی وژن ٹی آر ٹی پر ایک سیریز کا آغاز ہوا، 2017 میں پایہ تخت عبد الحمید نامی ڈرامہ سیریز نے نئی نسل کو ان کی تاریخ سے روشناس کرایا، جس کے بعد وہ ایک بار پھر عوامی توجہ کا مرکز بن گئے۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/UPqswDu

No comments