Breaking News

چین : ڈائپرز میں زہریلے مواد کا انکشاف : بڑے پیمانے پر تحقیقات

بیجنگ : چین میں بچوں کے ڈائپرز میں مبینہ طور پر مضر کیمیکل کی مبینہ موجودگی کے بعد متعلقہ حکام نے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

چین کے سرکاری مارکیٹ ریگولیٹری ادارے نے بچوں کے ڈائپرز میں کیمیائی مادے "فارمامائیڈ” کی مبینہ موجودگی کے حوالے سے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تین معروف برانڈز نے الزامات مسترد کر دیے۔

حالیہ میڈیا رپورٹس میں انکشاف ہوا تھا کہ کچھ بچوں میں بار بار خارش اور جلد کے مسائل سامنے آنے کے بعد کی گئی جانچ میں ڈائپرز کے اندر فارمامائیڈ نامی زہریلا کیمیکل پایا گیا۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تحقیقات میں متعدد سرکاری ادارے شامل ہوں گے تاکہ بچوں کی صحت سے متعلق خدشات کا جائزہ لیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق اس تحقیقات میں وزارتِ صنعت، قومی صحت کمیشن اور بیماریوں پر قابو پانے والے سرکاری ادارے بھی حصہ لیں گے۔

دوسری جانب تین ڈائپر بنانے والی کمپنیوں نے اپنے مصنوعات میں فارمامائیڈ کی موجودگی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اندرونی اور آزاد لیبارٹریوں میں کیے گئے ٹیسٹوں میں اس مادے کے کوئی آثار نہیں ملے۔

فارمامائیڈ ایک مصنوعی کیمیائی مرکب ہے جو بعض صنعتی مصنوعات، پلاسٹک، گوند اور چپکنے والے مادوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض ممالک میں اسے تولیدی صحت کے لیے نقصان دہ مادہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ یہ جلد میں جلن، خارش اور چکر آنے جیسی علامات بھی پیدا کر سکتا ہے۔

متعلقہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ڈائپرز کے دوبارہ کرائے گئے آزادانہ ٹیسٹ بھی منفی آئے ہیں۔ ایک کمپنی نے اس معاملے پر اپنے برانڈ کے خلاف ’جھوٹی، گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی معلومات‘ پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

چین میں بچوں کی صحت سے متعلق معاملات انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں، خصوصاً 2008 کے بدنام زمانہ میلامین دودھ اسکینڈل کے بعد جس سے تقریباً تین لاکھ بچے متاثر ہوئے تھے۔

اسی پس منظر میں والدین اور حکام بچوں کی مصنوعات میں کسی بھی ممکنہ مضر کیمیکل کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چونکہ ڈائپرز نوزائیدہ بچوں کی حساس جلد کے ساتھ طویل وقت تک مسلسل رابطے میں رہتے ہیں، اس لیے فارمامائیڈ جیسے مادوں کے ممکنہ طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے، حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/0SjqPY6

No comments