امریکی ویزے پر ایک لاکھ ڈالر فیس سے متعلق بڑا فیصلہ
امریکی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ 100,000ڈالر H1-B ویزا فیس کو ختم کر دیا۔
ایک وفاقی جج نے 100,000 ڈالر فیس کو ختم کر دیا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتہائی ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے نئے H-1B ویزوں پر عائد کی تھی اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ایک غیر قانونی ٹیکس ہے جس کی کانگریس نے کبھی اجازت نہیں دی تھی۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج لیو سوروکن نے بوسٹن میں یہ فیصلہ 20 ڈیموکریٹک ریاستی اٹارنی جنرلز کی طرف سے دائر مقدمے میں جاری کیا جس میں ٹرمپ کے ستمبر میں اعلان کردہ فیس کو چیلنج کیا گیا تھا۔
ایچ ون بی ویزے کی قیمت ایک لاکھ ڈالر مقرر، امریکا کے گولڈ کارڈ ویزے کے لیے کتنی رقم دینی ہوگی؟
اس فیصلے سے ایج ون بی ویزے کی لاگت میں ڈرامائی اضافہ کیا گیا تھا۔
H-1B پروگرام سالانہ 65,000 ویزوں کی پیشکش کرتا ہے جب کہ مزید 20,000 ویزوں کے ساتھ اعلی درجے کی ڈگری والے کارکنوں کے لیے کی آفر رکھی گئی تھی جو تین سے چھ سال کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔
ٹرمپ کے اعلان سے پہلے غیر ملکی کارکن کے لیے ویزا حاصل کرنے والے آجروں نے عام طور پر تقریباً 2,000 سے 5,000 ڈالر فیس ادا کی جو مختلف عوامل پر منحصر ہے۔
عدالتی فائلنگ کے مطابق، فیس میں اضافے نے H-1B ویزا کی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ انتظامیہ نے مارچ کی فائلنگ میں کہا کہ 15 فروری تک، امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کو 100,000 ڈالر فیس کی صرف 85 ادائیگیاں موصول ہوئی تھیں۔
بھارتی قونصل خانوں میں جعلی ڈگریوں کے حامل نوجوانوں کو امریکی ایچ ون بی ویزہ دینے کے انکشافات
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/viRW4xX
No comments