Breaking News

برازیل اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ : نیا محاذ کھل گیا

برازیلیا : امریکہ اور برازیل کے درمیان حالیہ تجارتی کشیدگی کا سب سے بڑا سبب برازیل کا ڈیجیٹل پے منٹ سسٹم (پکس) اور نئے امریکی ٹیرف ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق برازیل اور واشنگٹن کے درمیان پکس ایک فلیش پوائنٹ بن گیا ہے، واشنگٹن نے اس مقبول ترین پبلک سسٹم کو امریکی کمپنیوں کے لیے غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے برازیلی درآمدات پر 25 فیصد ڈیوٹی لگا دی ہے، جس پر برازیل نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برازیل کا مفت اور فوری ڈیجیٹل ٹرانسفر سسٹم (پکس) بے حد مقبول ہے جس کے 170ملین سے زائد صارفین ہیں اور یہ سالانہ 6.7 ٹریلین ڈالر کے لین دین کو سنبھالتا ہے۔

امریکی حکومت نے اس سسٹم پر اعتراض کیا ہے کیونکہ یہ عالمی مالیاتی نیٹ ورکس (جیسے ویزا اور ماسٹر کارڈ) کو مالی نقصان پہنچا رہا ہے اور امریکی حکام اسے غیر منصفانہ تجارتی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ امریکا برازیل سے پکس نظام ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہا، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ سرکاری ملکیت ہونے کی وجہ سے اس نظام کو خصوصی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔

دوسری جانب برازیلی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی اعتراضات دراصل امریکی کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

برازیل کے مرکزی بینک کے سربراہ گیبریل گالیپولو نے امریکی مؤقف کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پکس کسی نجی کمپنی کا حریف نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ایک نظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ پکس کے باعث لاکھوں برازیلی شہریوں نے پہلی بار بینک اکاؤنٹس کھلوائے، جس سے کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی مجموعی طور پر بڑھی ہے۔ ان کے بقول یہ ایسا ہی ہے جیسے یہ کہنا کہ صاف پانی اور سیوریج کا نظام متعارف کرانے سے پانی کے ٹینکر مالکان کا کاروبار متاثر ہوگیا۔

واضح رہے کہ برازیل کے مرکزی بینک نے 2020 میں پکس متعارف کرایا تھا، جو صرف تین برس میں کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ملک کا سب سے بڑا ادائیگی نظام بن گیا ہے۔

اس وقت برازیل میں ہونے والے نصف سے زیادہ مالی لین دین پکس کے ذریعے کیے جاتے ہیں جبکہ اس کے صارفین کی تعداد تقریباً 17 کروڑ ہے، جو ملک کی 80 فیصد آبادی کے برابر ہے۔

ادھر ویزا اور ماسٹر کارڈ ماضی میں اپنے سرمایہ کاروں کو خبردار کرچکے ہیں کہ پکس جیسے سرکاری ادائیگی نظام ان کے کاروباری ماڈل کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوسکتے ہیں۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/OVaEork

No comments