اسرائیلی فوجیوں کی ماؤں نے نیتن یاہو کو آڑے ہاتھوں لے لیا
صہیونی فوجیوں اور ان کی ماؤں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اقوام متحدہ میں خطاب کو غزہ میں زبردستی سنانے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خطاب کو غزہ پٹی میں لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے نشر کرنے کے حکم نے اسرائیلی سیاسی، عسکری اور سماجی حلقوں میں شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس اقدام پر فوجی افسران، جنگی قیدیوں کے اہلِ خانہ اور فوجیوں کی مائیں سخت ناراض ہوئیں۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے وزیراعظم دفتر کے حکم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ فوجیوں کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے کیونکہ اس میں انہیں اپنی محفوظ پوزیشنیں چھوڑ کر غزہ کے اندر داخل جانا پڑا۔
ایک سینئر فوجی افسر کا کہنا تھا کہ غزہ میں لوگوں کو وزیراعظم کا خطاب سنانا ایک پاگل پن ہے، لوگ پوچھ رہے ہیں یہ کیا فریب ہے، کوئی نہیں سمجھتا کہ اس کا کوئی فوجی فائدہ ہوگا یا نہیں۔
اسرائیلی فوجیوں کی ماؤں نے کہا کہ ہمارے بچے آپ کے سیاسی شو کا اسٹیج نہیں ہیں۔ آپ کب تک ہمارے بیٹوں کو اپنی ذاتی مہم کے لیے استعمال کریں گے؟ وہ محض آپ کی جنگی فلم کے بیک گراؤنڈ اداکار نہیں ہیں۔
نیتن یاہو کا اقوام متحدہ سے اپنا خطاب فلسطینیوں کو زبردستی سنانے کیلیے اقدامات کا حکم
اسرائیلی آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے ایک فوجی کی والدہ نے کہا کہ فوجیوں کی جانوں کی ذمہ داری آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس پاگل پن کو روکیں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم دفتر نے فوج کو ہدایت کی تھی کہ وہ نیتن یاہو کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیا جانے والا خطاب براہِ راست غزہ پٹی کے رہائشیوں تک پہنچائیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/8ZvkGYB
No comments