مصر، قطر اور ترکیہ کی حماس کو امریکی پلان پر قائل کرنے کی کوششیں
مصر نے کہا ہے کہ حماس کو امریکی غزہ پلان پر قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
مصری وزیرخارجہ کے مطابق مصر، قطر اور ترکیہ مل کر حماس کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں امید ہے حماس کو مثبت جواب دینے پر قائل کر لیں۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امید ہے حماس غزہ سے متعلق ٹرمپ کے منصوبے کی منظوری دے گی۔
امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیرولین لیویٹ نے کہا کہ غزہ جنگ بندی کا منصوبہ قابل قبول ہے توقع کرتے ہیں حماس بھی ٹرمپ کے منصوبے کو قبول کرے گی۔
حماس غزہ امن منصوبے کے تحت غیر مسلح نہیں ہونا چاہتی، ذرائع کا دعویٰ
ترجمان نے کہا کہ حماس منصوبہ قبول کرے تاکہ زیادہ پرُامن مشرق وسطیٰ کی جانب آگے بڑھ سکیں۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر "حساس بات چیت” ہو رہی ہے۔
حماس عہدیداران کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن منصوبے کی غیر مسلح ہونے کی شق میں ترمیم چاہتی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو میں فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ حماس کے مذاکرات کاروں نے منگل کو دوحہ میں ترکی، مصری اور قطری عہدیداران کے ساتھ بات چیت کی، مزاحمتی تنظیم کو مجوزہ غزہ امن منصوبے پر جواب دینے کیلیے مزید دو سے تین دن درکار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن منصوبے کے تحت فوری جنگ بندی، حماس کے ہاتھوں اسرائیلی یرغمالیوں کی 72 گھنٹوں کے اندر رہائی، مزاحمتی تنظیم کا غیر مسلح ہونا اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا شامل ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/geXJMt6
No comments