یوکرینی صدر نے روس سے مذاکرات کیلیے شرط رکھ دی
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے روس کیساتھ مشروط مذاکرات کرنے کا اعلان کردیا۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ مذاکرات کیلئے تیار ہیں مگر اپنے علاقے نہیں چھوڑیں گے، امن مذاکرات کہیں بھی ہو سکتے ہیں مگر روس یا بیلاروس میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپی اور یوکرینی حکام جمعہ یا ہفتہ کو ملاقات کریں گے دونوں فریق جنگ بندی منصوبے کی تفصیلات پر غور کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ ختم کرنے کا منصوبہ نہیں بلکہ سفارتی عمل شروع کرنےکا پہلا قدم ہے ہمارے مشیر چند روز میں مل بیٹھیں گے تاکہ جنگ بندی پلان کے نکات طےکریں۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اتحادیوں سے روس حملوں کے لیے تباہ کن ہتھیار مانگ لیے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی کی لندن میں یورپی رہنماؤں سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے اتحادیوں سے اپیل کی کہ روس پر دباؤ کیلئے طویل فاصلے کے ہتھیار فراہم کریں۔
برطانیہ کی سربراہی میں یوکرین کی عسکری مدد کیلئےکوالیشن آف دی ولنگ اجلاس میں زیلنسکی نے کولیشن آف دی ولنگ ممالک سے یوکرینی حملوں کی رینج بڑھانے کی درخواست بھی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو ٹوموہاک میزائل ملنے کا علم ہوا تو روسی صدر فوری مذاکرات پر آمادہ ہو گئے، یوکرین روس میں توانائی و فوجی تنصیبات پر اپنے تیار ہتھیاروں سےحملےکر رہا ہے یوکرین نے امریکا سے طویل فاصلے کے ٹوماہاک میزائل مانگ رکھے ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/oWMKDNj
No comments