Breaking News

ٹرمپ انتظامیہ نے تمام پناہ گزین درخواستوں کا فیصلہ روک دیا

واشنگٹن (01 دسمبر 2025): امریکa کے شہریتی و امیگریشن سروسز (USCIS) کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے دو فوجیوں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے تمام اقوام کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے عارضی طور پر روک دیے ہیں۔

جوزف ایڈلو کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ہم یہ یقینی نہیں بنا لیتے کہ ہر غیر ملکی کی مکمل اور سخت جانچ ممکن ہو سکے۔

یہ اقدام اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ تمام ’تیسری دنیا کے ممالک‘ سے آنے والی نقل مکانی کو مستقل طور پر روک دیں گے۔

امریکا نے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افغان شہریوں کی فہرست جاری کردی

بدھ کے روز ہونے والی فائرنگ میں ایک نیشنل گارڈ اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا تھا۔ حکام نے اس واقعے کا الزام ایک افغان نژاد شخص پر عائد کیا ہے۔ ابتدائی اقدامات خاص طور پر افغان شہریوں سے متعلق تھے، تاہم بعد ازاں کیے گئے فیصلوں کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلہ روکنے کا حکم


امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق، محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ماتحت USCIS کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قومیت کی پناہ کی درخواست کو نہ منظور کرے، نہ مسترد، اور نہ ہی بند کرے۔ البتہ افسران درخواستوں پر کام جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم فیصلہ نہیں دیا جائے گا۔

نقل مکانی اور ویزا پالیسیوں میں سختی


ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ممالک پر ’’مائیگریشن پاز‘‘ کا اطلاق ہوگا، لیکن اس فیصلے کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، جب کہ اقوام متحدہ سمیت متعدد اداروں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اپنی دوسری مدتِ صدارت میں ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن کے حوالے سے مزید سخت اقدامات کر رہی ہے۔ اس میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری، پناہ گزینوں کے سالانہ کوٹے میں کمی اور امریکا میں پیدا ہونے والے کئی بچوں کو ملنے والی خودکار شہریت کا خاتمہ شامل ہے۔

بدھ کے واقعے کے بعد سب سے پہلے افغان شہریوں کو دیے جانے والے ویزوں کے اجرا کو عارضی طور پر روکا گیا، اور پھر تمام افغان امیگریشن درخواستوں کو نظرِثانی تک معطل کر دیا گیا۔

گرین کارڈز کا دوبارہ جائزہ


جمعرات کو USCIS نے اعلان کیا کہ وہ 19 ممالک سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے گرین کارڈز کا دوبارہ جائزہ لے گا جو ماضی میں امریکا منتقل ہوئے تھے۔ ان ممالک میں افغانستان، کیوبا، ہیٹی، ایران، صومالیہ اور وینیزویلا شامل ہیں۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس عمل کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

ٹرمپ کا غیر شہریوں کے وفاقی فوائد روکنے کا اعلان


صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ غیر شہریوں کے لیے تمام وفاقی فوائد اور سبسڈیز ختم کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزین امریکا میں ’’سماجی خرابی‘‘ کا سبب بن رہے ہیں اور وہ ’’ایسے ہر شخص کو ملک سے نکال دیں گے جو امریکا کے لیے اثاثہ ثابت نہیں ہوتا۔‘‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ صومالیہ سے آنے والے سیکڑوں ہزاروں پناہ گزین منی سوٹا جیسے عظیم ریاست کو مکمل طور پر تبدیل کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ’’میں تیسری دنیا کے تمام ممالک سے نقل مکانی کو مستقل طور پر روک دوں گا تاکہ امریکی نظام مکمل طور پر بحال ہو سکے۔‘‘

بین الاقوامی ردعمل


اقوام متحدہ نے امریکا سے اپیل کی ہے کہ وہ پناہ گزینوں سے متعلق عالمی معاہدوں کی پاسداری کرے۔ امیگریشن وکلا ایسوسی ایشن کے سابق صدر جیریمی میک کنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ کا ردعمل ’’مہاجرین کو قربانی کا بکرا بنانے‘‘ کے مترادف ہے۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/ymMxBWJ

No comments