ہاؤس آف ہاررز کی ہولناک کہانی : ایسا گھر جہاں 13 بچے والدین کا بدترین تشدد سہتے رہے
کیلیفورنیا : سال 2018 کے اوائل میں امریکا کی ٹرمپِن فیملی کی کہانی ہاؤس آف ہاررز نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، سفاک والدین کے 13 بچے جن پر قیامت گزر گئی مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری۔
امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں ٹرمپِن فیملی کی کہانی 2018 میں اس وقت منظرِ عام پر آئی جب 17 سالہ جورڈن ٹرمپِن نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر گھر سے فرار ہو کر پولیس کو فون کیا۔ یہ ایک عام ایمرجنسی کال نہیں تھی بلکہ برسوں سے جاری ایسے مظالم کا انکشاف تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
جورڈن ٹرمپِن کا 911 پر فون کرنا ایک ایسے ظلم و ستم کا پردہ فاش کر گیا جس پر یقین کرنا مشکل تھا۔ اس فون کال کے بعد معلوم ہوا کہ والدین ڈیوڈ اور لوئیس ٹرمپِن برسوں سے اپنے 13 بچوں پر بدترین تشدد کرتے آ رہے تھے۔
:max_bytes(150000):strip_icc():focal(999x0:1001x2):format(webp)/turpin-home-4-48fcdc7fdab14834b39441d7f08de1e7.jpg)
یہ گھر محض ایک رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک حقیقی ’ہاؤس آف ہاررز‘ تھا۔ بچوں کو زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا، کھانے سے محروم کیا جاتا، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد معمول تھا۔ بعض بچوں کو بستر سے باندھ دیا جاتا اور گھنٹوں ان کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہ کی جاتیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جورڈن نے 911 آپریٹر کو بتایا کہ اس کے والدین اپنے 13 بچے قید میں رکھے ہوئے ہیں، انہیں زنجیروں سے باندھا جاتا ہے، کھانے پینے کیلیے بھی بہت کم خوراک دی جاتی ہے اور جسمانی و ذہنی تشدد روز کا معمول ہے۔
اطلاع ملتے ہی جب پولیس کارروائی کیلیے ان کے گھر پہنچی تو وہاں بچوں کو قید کے دوران انتہائی گندگی، بدبو اور تاریکی میں موجود پایا گیا، بچوں کی عمریں 2 سے 29 سال کے درمیان تھیں کئی بچے بات کرنے اور چلنے پھرنے تک سے ناواقف تھے، انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ پولیس کیا ہوتی ہے۔
ط
جورڈن نے بتایا کہ ہمارے والدین بہت ظالم ہیں، ہم بھوکے پیاسے اس گندگی میں رہتے ہیں، بعض اوقات سانس لینا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سفاک والدین اپنے بچوں کو سال میں صرف ایک بار نہانے دیتے تھے، گھر میں دھوئیں کے الارم کی مسلسل چیخنے والی آواز بطور تشدد استعمال کی جاتی تھی اور خوراک کو سزا اور لالچ کے طور پر رکھا جاتا تھا۔ ایک بچی کو محض کھانا لینے پر اپنی بلی کو کتوں کے ہاتھوں مرتے دیکھنے پر مجبور کیا گیا۔
فروری 2019 میں والدین نے 14 سنگین جرائم کا اعتراف کیا اور انہیں 25 سال تا عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم المیہ یہیں ختم نہیں ہوا، کئی بچے بعد ازاں ایسے فوسٹر گھروں میں بھی تشدد کا شکار ہوئے، جس پر 2022میں متاثرہ بہن بھائیوں نے ریاست اور متعلقہ اداروں کے خلاف مقدمات دائر کیے۔
:max_bytes(150000):strip_icc():focal(599x0:601x2):format(webp)/david-louise-turpin-1-52ab812b9e054454b7431bd81bf79973.jpg)
تاہم المیہ یہیں ختم نہ ہوا۔ کئی بچے بعد میں جن فوسٹر گھروں میں رکھے گئے، وہاں بھی بدسلوکی کا شکار ہوئے، جس پر متاثرہ بہن بھائیوں نے قانونی چارہ جوئی کی۔
آج، تمام تر اذیتوں کے باوجود، ٹرمپِن بہن بھائی نئی زندگی کی طرف گامزن ہیں۔ جورڈن اپنے گھر میں رہائش پذیر ہے، ذہنی صحت پر کام کر رہی ہے اور ایک موٹیویشنل اسپیکر بننے کی خواہش رکھتی ہے۔ بہن جینیفر کی 2024 میں شادی ہوئی، جس میں تمام بہن بھائی شریک ہوئے۔
جورڈن کا کہنا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، اس نے ہم سب بہن بھائیوں کو توڑا نہیں بلکہ ایک ناقابلِ شکست رشتے میں باندھ دیا ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/5a9rqwn
No comments