Breaking News

کابل میں چینی ریسٹورنٹ میں دھماکے میں 7 ہلاک، داعش کی کارروائی

کابل (20 جنوری 2026): کابل میں چینی ریسٹورنٹ میں دھماکے میں 7 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چینی ریسٹورنٹ میں دھماکے میں سات افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک چینی باشندہ اور 6 افغان شامل ہیں، جب کہ 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، یہ دھماکا چینی ریسٹورنٹ کے کچن کے نزدیک ہوا، اور ریسٹورنٹ چینی نژاد مسلم شہری عبدالماجد اور افغان شہری عبدالجبار مل کر چلاتے تھے۔

روئٹرز کے مطابق اسلامک اسٹیٹ (داعش) نے پیر کو کابل کے ہوٹل میں چینیوں کے زیر انتظام ریسٹورنٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ حکام نے بتایا کہ دھماکا افغانستان کے دارالحکومت کے ایک سخت حفاظتی حصار میں واقع ریسٹورنٹ میں ہوا ہے۔

ایران میں سرکاری ٹی وی چینلز ہیک، رضا پہلوی کا پیغام نشر

پولیس کے ترجمان خالد زدران نے بتایا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والا ریسٹورنٹ کابل کے تجارتی علاقے شہرِ نو میں واقع ہے، جہاں دفتری عمارتیں، شاپنگ کمپلیکس اور سفارت خانے موجود ہیں۔ یہ علاقہ شہر کے محفوظ ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

زدران کے مطابق چینی نوڈلز کا یہ ریسٹورنٹ ایک چینی مسلمان عبدالمجید، ان کی اہلیہ اور ایک افغان شراکت دار عبدالجبار محمود مشترکہ طور پر چلا رہے تھے، اور یہ ریسٹورنٹ چینی مسلم برادری کو خدمات فراہم کرتا تھا۔ ہلاک چینی شہری کا نام ایوب بتایا گیا ہے۔

بعد ازاں داعش (ISIS) کی افغان شاخ نے پیر کے روز ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، اور اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ ایک خودکش بمبار نے کیا تھا۔ داعش کی خبر رساں ایجنسی اعماق نے کہا کہ اس گروہ نے چینی شہریوں کو اپنے اہداف کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، اور اس کی وجہ ’’چینی حکومت کی جانب سے اویغوروں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم‘‘ کو قرار دیا۔

الجزیرہ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیمیں بیجنگ پر اویغوروں کے خلاف وسیع پیمانے پر زیادتیوں کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔ اویغور ایک بڑی حد تک مسلم نسلی اقلیت ہیں، جن کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے اور جو چین کے انتہائی مغربی علاقے سنکیانگ میں رہتے ہیں۔ بیجنگ نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی اور مغربی ممالک پر مداخلت اور جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/Yjz8oJi

No comments