کھولتا ہوا پانی زبردستی پلانے والی سوتیلی ماں ، بچے نے موت سے قبل کیا بتایا ؟
جاوا : سوتیلی ماں نے مظالم کی ساری حدیں پار کردیں، 12سالہ بچے کے منہ میں کھولتا ہوا پانی ڈال دیا، بچے نے موت سے قبل بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا۔
انڈونیشیا کے صوبے مغربی جاوا کے شہر سوکابومی میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے عوام کو سوگ اور غم میں مبتلا کردیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 12سالہ نِظام سیافی نے زندگی کی آخری سانسیں لینے سے چند لمحے قبل مبینہ طور پر اپنی سوتیلی ماں کا نام لے دیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شدید زخمی بچہ اسپتال کے بستر پر لیٹا ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اسے کس نے اذیت دی تو اس نے مدھم آواز میں صرف ایک لفظ کہا “ممی”۔ یہ الفاظ اس کی زندگی کے آخری الفاظ ثابت ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق نِظام کو 19 فروری کی علی الصبح تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی غذائی نالی کھولتے پانی سے بری طرح جھلس چکی تھی، جس کے باعث اسے شدید اندرونی زخم آئے۔ اسی روز دوپہر کے وقت وہ دم توڑ گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق بچے کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات بھی موجود تھے جو جسمانی زیادتی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
نظام کے والد انور ساتیبی نے انکشاف کیا کہ 2025 میں بھی ان کے بیٹے کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہوں نے اپنی اہلیہ کے خلاف پولیس رپورٹ درج کرائی تھی۔
تاہم خاتون کی معافی اور آئندہ رویہ درست رکھنے کی یقین دہانی پر معاملہ ثالثی کے ذریعے وقتی طور پر نمٹا دیا گیا تھا، ان کے بقول رپورٹ باضابطہ طور پر واپس نہیں لی گئی تھی۔
والد نے الزام عائد کیا کہ سوتیلی ماں اپنے لے پالک بیٹوں سے جھگڑے کی صورت میں نظام کو مارتی پیٹتی تھی، جبکہ اپنے دیگر دو بچوں کو سزا نہیں دیتی تھی۔
واقعے سے ایک رات قبل انور کام پر موجود تھے جب ان کی اہلیہ نے فون کر کے بتایا کہ بچے کو تیز بخار ہے۔ گھر واپس آنے پر انہوں نے نظام کے جسم پر چھالے اور جھلسنے کے نشانات دیکھے، حالانکہ صبح وہ بالکل ٹھیک حالت میں تھا۔ خاتون نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا کہ بخار کے دوران اس کے جسم پر قدرتی طور پر چھالے نمودار ہوجاتے ہیں۔
اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے زخموں کی نوعیت اور شدت کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے انہیں تشدد کا نتیجہ قرار دیا، اب موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔
سوکابومی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کی باقاعدہ تحقیقات جاری ہیں اور فرانزک رپورٹ موصول ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/LNFDd1y
No comments