Breaking News

مشرق وسطیٰ میں جاری کارروائیاں سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں، ٹرمپ

واشنگٹن (21 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اہداف کے حصول کے قریب پہنچ گئے ہیں، اور اب خطے میں جاری کارروائیاں سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایک گھنٹے میں ایران کا الیکٹرک سسٹم تباہ کر سکتا ہے جسے دوبارہ بحال کرنے میں ایران کو 25 سال لگ جائیں گے، ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں یوکرین کی مدد نہیں چاہیے، صدر زیلنسکی کی پیشکش سیاسی وجوہ کی بنیاد پر مسترد کی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا اب ترجیح ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کی تباہی ہے، ایران کی بحریہ اور فضائیہ سمیت اینٹی ایئر کرافٹ نظام ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ انھوں نے کہا ایران کو کسی صورت جوہری صلاحیت کے قریب نہیں آنے دیں گے، امریکا ہر ممکن صورت حال پر فوری اور طاقت ور رد عمل دے سکتا ہے۔

امریکا مجبور ہو گیا، ایران سے تیل کی درآمد پر عائد پابندیاں 30 دن کے لیے ہٹانے کا اعلان

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل، سعودی عرب، قطر، یو اے ای، بحرین، کویت سمیت اتحادیوں کا ہر طرح تحفظ کریں گے، آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک سادہ فوجی آپریشن کی ضرورت ہے، آبنائے کی نگرانی وہاں سے گزرنے والے ملکوں کی ذمہ داری ہے، اور یہ متعلقہ ملکوں کے لیے آسان فوجی آپریشن ہوگا، ضرورت پڑنے پر امریکا معاونت کرے گا۔

اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملوں کا مقصد رجیم چینج نہیں تھا، ایران کو تعمیر نو کے لیے 10 سال درکار ہوں گے۔ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا ایران کے سخت گیر حکمرانوں کو ختم کرنا فوجی آپریشن کا مقصد نہیں بلکہ ہمارا ہدف نیو کلیئر ہتھیاروں کی روک تھام ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن جنگ بندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایران کو مکمل تباہ کر رہے ہیں، مٹا دینے کے قریب ہیں تو جنگ بندی کیوں ہو، انھوں نے کہا ہم ایران کے خلاف طاقتور حملے کر رہے ہیں اور ہم فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں، یقین ہے جب امریکا چاہے گا اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہوگا۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/G8M0Kpr

No comments