Breaking News

اسرائیلی فوج نے تاریخی ابراہیمی مسجد کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا

الخلیل : اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر میں واقع تاریخی ابراہیمی مسجد کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا اور نمازیوں کو بندوق کی نوک پر باہر نکال دیا۔

تفصیلات کے مطابق صہیونی فورسز کی جانب سے ایک اور کھلی اشتعال انگیزی سامنے آئی، اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل میں واقع مسلمانوں کی تاریخی اور مقدس ترین ‘مسجدِ ابراہیمی’ کو غیر معینہ مدت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

اس جابرانہ اقدام کے بعد پورے فلسطین اور مقبوضہ مغربی کنارے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

فلسطینی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے مسلح اہلکار اچانک مسجدِ ابراہیمی میں داخل ہوئے اور وہاں موجود نمازیوں، مسجد کے انتظامی عملے اور محافظوں کو بندوق کی نوک پر زبردستی اور دھکے دے کر مقدس احاطے سے باہر نکال دیا۔

مسجد کو تالے لگا کر سیل کرنے کے بعد، اسرائیلی فوج نے مسجد کے اردگرد قائم تمام سیکیورٹی چیک پوائنٹس اور لوہے کے گیٹ بھی بند کر دیے ہیں تاکہ کوئی بھی مسلمان وہاں تک نہ پہنچ سکے۔

فلسطینی وزارتِ اوقاف نے اس بزدلانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے "عبادت کی آزادی پر حملہ اور کھلی دہشت گردی” قرار دیا اور کہا اسرائیل اس بندش کی آڑ میں مسجدِ ابراہیمی کی تاریخی اور اسلامی حیثیت کو تبدیل کرنے کی مذموم تیاری کر رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق، اس جابرانہ ہتھکنڈے کا اصل مقصد الخلیل کے قدیم اور تاریخی شہر سے فلسطینیوں کو مکمل طور پر بے دخل کر کے اس پورے علاقے پر غاصبانہ کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

مسجدِ ابراہیمی پر تالے لگانے اور مسلمانوں کا داخلہ بند کرنے کے اسرائیلی فیصلے کے خلاف مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں شدید احتجاجی لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

فلسطینی قیادت نے عالمی برادری اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے اس مقدس ترین مقام کے تحفظ کے لیے فوری اور عملی قدم اٹھائیں۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/I4NgZW0

No comments