اسرائیل نے امریکی عہدیداروں کی جاسوسی تیز کردی، نیویارک ٹائمز
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں اسرائیل پر امریکی مذاکرات کاروں کی جاسوسی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے امریکی عہدیداروں کی جاسوسی تیز کردی۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان خفیہ کشیدگی سامنے آگئی، پینٹاگون کے دفاعی انٹیلی جنس ادارے اور دیگر فوجی انٹیلی جنس دفاتر نے حالیہ دنوں میں اسرائیل سے لاحق جوابی انٹیلی جنس خطرات کی درجہ بندی “ہائی” سے بڑھا کر “کریٹیکل” کردی ہے۔
اسرائیلی جاسوسی پر امریکی انتظامیہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وارننگ دے دی ہے، امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس تفصیلات جمع کرنے کا اسرائیلی طریقہ کار بے لگام ہوچکا ہے، اسرائیل نے جاسوسی کی کوششوں پر تمام حدیں پارکرلی ہیں،
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جاسوس ایران اور امریکا مذاکرات کی معلومات حاصل کرنے اور ٹرمپ کی پوزیشن جاننے کی کوشش کررہے ہیں، اسرائیل اسٹیووٹکوف سمیت دیگر اہم امریکی عہدیداروں کی جاسوسی کررہا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات پر خفیہ نگرانی کر رہی ہیں اور امریکی مذاکرات کاروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
ان امریکی حکام میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مذاکرات کار اسٹیو وِٹکوف، پینٹاگون کے اعلیٰ پالیسی عہدیدار ایلبریج اے کولبی اور ان کے نائب مائیکل پی۔ ڈی مینو چہارم شامل بتائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سرگرمیوں میں انسانی جاسوسی، تکنیکی نگرانی اور امریکی فوجی و سرکاری اہلکاروں سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اتحادی ممالک کے درمیان جاسوسی نئی بات نہیں، تاہم موجودہ سرگرمیوں کو “غیرمعمولی حد تک جارحانہ” قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران سے متعلق حساس مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی سفارتخانے کے ترجمان نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں “مکمل طور پر جھوٹ” قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے اتحادیوں کے خلاف جاسوسی نہیں کرتا بلکہ صرف دشمنوں پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/UymFw4s
No comments