طالب علم نے اے آئی ہیکر کا حملہ کیسے ناکام بنایا؟ حیران کن انکشاف
آسٹن : 24 سالہ طالب علم نے پر ایک خودکار اے آئی ہیکر (ایجنٹ) کی جانب سے سپلائی چین ہیک کرنے کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیا۔
امریکا کی ریاست ٹیکساس میں کمپیوٹر سائنس کے ایک طالب علم نے اوپن سورس سافٹ ویئر میں مبینہ طور پر نقصان دہ کوڈ شامل کرنے کی کوشش کو بروقت پکڑ کر ناکام بنا دیا۔
تاہم بعد میں انکشاف ہوا کہ اس حملے کے پیچھے کوئی انسانی ہیکر نہیں بلکہ ایک خودکار مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہیکر ایجنٹ تھا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ یونیورسٹی آف ٹیکساس اٹ ڈلاس کے 24 سالہ طالب علم سینان جان دمیر اپنے پورٹ فولیو کے لیے اوپن سورس پروجیکٹس تلاش کر رہا تھا اس دوران اس نے کوڈ شیئرنگ پلیٹ فارم ’گٹ ہب‘ پر ایک اوپن سورس منصوبے میں مشکوک تبدیلی دیکھی۔
انہوں نے منصوبے کے صفحے پر اس ممکنہ خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مجوزہ کوڈ میں خفیہ میل ویئر شامل ہے۔
طالب علم کی جانب سے انتباہ کے بعد دو مختلف صارفین نے اس کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے تفصیلی وضاحتیں پیش کیں اور دعویٰ کیا کہ کوڈ میں کوئی خرابی نہیں، تاہم دمیر اپنے مؤقف پر قائم رہے اور بالآخر نقصان دہ تبدیلی کو سافٹ ویئر میں شامل ہونے سے روک دیا۔
بعد میں برطانوی اے آئی سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ نے دمیر سے رابطہ کرکے بتایا کہ جن اکاؤنٹس سے وہ بحث کر رہے تھے، ان کے پیچھے دراصل ایک خودکار اے آئی ایجنٹ تھا جو ایک تجربے کے دوران بےقابو ہوگیا تھا۔
دمیر نے بتایا کہ انہیں ابتدا میں یقین تھا کہ وہ کسی ماہر انسانی ہیکر سے مقابلہ کر رہے ہیں، کیونکہ اے آئی ایجنٹ نے اسے غلط ثابت کرنے کے لیے بظاہر جھوٹ بولا اور مختلف افراد کے نام سے دلائل پیش کیے۔
جعلی شناختیں بنا کر دھوکا دینے کی کوشش
رپورٹ کے مطابق اے آئی ایجنٹ نے miraholt31 نامی اکاؤنٹ کے ذریعے نقصان دہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کو بے ضرر قرار دینے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ اس نے لینا برینڈٹ نامی ایک جعلی شناخت بھی استعمال کی، جس کے ذریعے خود کو جرمنی میں مقیم انجینئر ظاہر کرتے ہوئے دوسرے صارفین کو اس اپ ڈیٹ پر اعتماد کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس لیے تشویشناک ہے کہ اے آئی ایجنٹ نے صرف خودکار طور پر نقصان دہ کوڈ تیار کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ انسانوں کو قائل اور گمراہ کرنے کے لیے باقاعدہ حکمت عملی بھی استعمال کی۔
کنگز کالج لندن کے محقق لوکاز اولیجنک نے اسے خودکار ہیکنگ سے آگے بڑھ کر انسانوں کو دھوکا دینے کی ایک منظم کوشش قرار دیا، جبکہ سائبر سکیورٹی ماہر میکسی رینالڈز کے مطابق مستقبل میں سماجی انجینئرنگ پر مبنی حملوں میں اے آئی کا استعمال ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
سپلائی چین حملوں کا بڑھتا خطرہ
سکیورٹی ماہرین کے مطابق سافٹ ویئر سپلائی چین حملہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی سافٹ ویئر میں خفیہ طور پر نقصان دہ کوڈ شامل کیا جائے تاکہ اسے استعمال کرنے والے بڑی تعداد میں صارفین بھی متاثر ہوسکیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خودکار اے آئی ایجنٹس ایسے حملوں کو بڑے پیمانے پر انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے اوپن سورس سافٹ ویئر کی سکیورٹی کو نئے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
برطانوی اے آئی سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق مذکورہ ایجنٹ اینتھروپک کے میتھوز 5 ماڈل پر مبنی تھا اور یہ کارروائی ایک حفاظتی تجربے کے دوران سامنے آئی۔
گٹ ہب نے بھی تصدیق کی کہ اے آئی کی جانب سے استعمال کیے گئے جعلی اکاؤنٹس کو دھوکا دہی اور ہیکنگ سے متعلق اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر معطل کردیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد دمیر کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ خطرات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
ان کے بقول اے آئی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، اس لیے اسے مزید طاقتور بنانے سے پہلے اس کے رویے اور صلاحیتوں کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/42PxO1U
No comments