Breaking News

وائٹ ہاؤس پریس سکیریٹری کیٹی زکریا کی وکالت کی ڈگری پر سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں؟

(15 اکتوبر 2026): وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری بننے کے ساتھ ہی کیٹی زکریا کی وکالت کی ڈگری پر کئی سوالات اٹھ گئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ کیٹی زکریا نے بطور ترجمان وائٹ ہاؤس میں پہلی پریس بریفنگ دی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ وہ سیاست میں آنے سے پہلے وکالت کرتی رہی ہیں، لیکن ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ کسی بھی امریکی ریاست یا ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں وکیل یا بار کی رکن کے طور پر رجسٹرڈ رہی ہوں۔

کیٹی زکریا کے لنکڈ ان پروفائل کے مطابق وہ 2011 سے 2013 تک چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ’ژونگ لن لاء فرم‘ میں ایسوسی ایٹ اور 2024 سے 2025 تک ’فکس کیلیفورنیا‘ میں جنرل کونسل کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیٹی زکریا وائٹ ہاؤس کی نئی ترجمان مقرر

انہوں نے ای میل کے ذریعے دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ میں نے تمام مناسب اسناد (ڈگریوں) کے ساتھ بین الاقوامی ٹرانزیکشن لاء کی پریکٹس کی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی میڈیا کوریج کے بارے میں خدشات کا اظہار کرنے کے بعد کیٹی زکریا کو وائٹ ہاؤس کی نئی ترجمان مقرر کیا تاکہ وہ ان کی کامیابیوں کو اجاگر کر سکے۔

انہوں نے پہلی پریس بریفنگ 15 منٹ میں ختم کی اور صرف تین رپورٹرز کے سوالات کے جوابات دیے۔ ان کی کارکردگی کو کچھ میڈیا مبصرین اور سیاسی تجزیہ کاروں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔

یونیورسٹی کے مطابق کیٹی زکریا نے 2011 میں پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ تقریباً تمام لائسنس یافتہ امریکی وکلاء پہلے قانون کی ڈگری حاصل کرتے ہیں، لیکن لاء اسکول کے گریجویٹس اسٹیٹ بار میں داخلہ لیے بغیر امریکا میں قانونی طور پر وکالت نہیں کر سکتے۔

ایک رپورٹر کے اس سوال پر کہ انہوں نے بار کا امتحان کہاں پاس کیا تو کیٹی زکریا نے کہا کہ جب میں چین چلی گئی تھی۔

لیکن چین میں قانون کے مطابق پریکٹس کرنے والے وکلاء کا چینی شہری ہونا ضروری ہے۔ غیر ملکی عملہ قانونی معاملات پر مشورہ دے سکتا ہے لیکن وکالت نہیں کر سکتا۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/NLivrgH

No comments